فلپیوں 3 : 12-14 یہ غرض نہیں کہ مَیں پا چکا ہوں بلکہ اس چِیز کے لِئےدَوڑا ہوا جاتا ہوں جِس کے لئے مسیح یسوع نے مجھے پکڑا تھا۔

ہمارا ماضی ہمارے لئے پریشانی کا باعث بنتا ہے تو بھی رحانیت میں بڑھنا ہماری ضرورت ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ کیا میں خود سے پریشان ہوں ؟شاید اس کا جواب ہو جی ہاں !کیونکہ خدا کے ساتھ چلنے کی ہمت تو میں رکھتا ہوں لیکن میری غلط فہمیوں کے سبب لوگو ں کا دل دکھا ہے جس سے یقیناً مجھے نقصان ہوا ہے ۔ پھر بھی میرا ماضی جو میری قابلیت سے نہیں ہو سکتا تھا خدا کے فضل سے محفوظ ہے ۔ اس لئے مقدس پولوس رسول ماضی کی بجائے اپنے اپنی خواہش اور مستقبل کے مقصد کو ملحوظِ خاطر رکھتا ہے ۔ لہٰذا یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کدھر کو جا رہے ہیں ۔ سوچا جائے کے کیا ہم خدا کی رفاقت کے طلب گار ہیں ؟جبکہ ماضی کی یادیں ہماری زندگی میں ہلچل مچاتی اور ہمیں ہمارے مرکز کی طرف بڑھنے سے روکتی ہیں ۔یہ سب مجھے اتنا ہی تذبذب میں ڈالتا ہے جتنا میں خدا کی قربت میں جا نا چاہتا ہوں اور یہ بنیادی مسائل کو اتنا ہی واضح کرتا ہے جتنا میں مستقبل کو اہم سمجھتا ہوں ۔

سوچناہوگاکہ ! ہماری سوچ کا مرکز بننے کے لیےخدا ہی کافی ہے یا کہ کوئی اور بھی کام ہیں جو ہماری توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں ؟یہ وہ سوالات ہیں جن کا سامنا ہم میں سے ہر کوئی کرتا ہےاور ان کے حل کے لئے خود ہی تگودو بھی کرتا ہے ۔ ہم جس طرح سے چاہتے ہیں اسی طرح سے ہماری شخصیت پروان چڑھتی ہے۔کیونکہ اس کا اختیار خدا نے ہمیں دے رکھا ہے اس اختیار کے باعث ہم پر منحصر ہے کہ ہم خوشگوار ایام کا انتخاب کریں یا مشکل کا کریں۔

غور طلب حوالہ جات: 2۔ کرنتھیوں 16: 1۔10؛عاموس 5:4۔15؛لوقا 11:5۔10؛2۔ کرنتھیوں 4: 7۔18

عملی کام : مستقبل کے توسط سے خدا کے بارے کون سے سوالات ہیں جو آپ کو پریشان کرتے ہیں ؟               لمحہ فکریہ ہے  مگر مسیحی ہوتےہوئے یہ سوالات ہمارے لئے بہت اہم ہیں ۔

  دُعا  : اے خدا مجھے تیری محبت پر فخر ہے لیکن میری کم اعتقادی کا اعلاج کر۔ کیونکہ تو ہی ایسا کر سکتا ہے۔ آمین۔


اَنسپلیش سے لی گئی اینڈے ڈوٹن کی تصویر۔

Micha Jazz is Director of Resources at Waverley Abbey, UK.