بنگلہ دیش میں ہر روز کورونا وائرس کے نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان کے افراد اور قریبی دوست اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ ایسے بہت سے مریض ہیں جو ہماری گھروں کے پاس ہی رہتے ہیں۔ جن لوگوں میں کورونا وائرس پایا جاتا ہے معاشرےمیں انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ لوگ اتنے پیسے بھی نہیں کما پا رہے کہ اپنی روز مرہ ضروریات پوری کرسکیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں لوگ صرف کورونا وائرس سے نہیں مر رہے بلکہ وہ ذہنی اور جسمانی مسائل سے دوچار ہیں۔ جب ہم یہ سنتے اور دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ ماں اپنے بچوں کوکھانا اور دوائیاں نہیں دے پا رہی ۔ ہم صرف خداسے فریاد کرسکتے ہیں کہ وہ ،’’ہمیں وسائل دے تا کہ ہم ان کی مددکے لئے کھڑے ہوسکیں‘‘۔لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔ ہم اپنی آنکھیں خدا کی طرف اٹھائے ہوئے ہیں جو ہماری زندگی کا مالک ہے۔

ان لوگوں کی مدد کے لئے میں کئی ورچول میٹنگز کا حصہ رہا ہوں ۔ یہ تمام میٹنگز اس لئے ہورہی ہیں تاکہ عالمی وبا کورونا وائرس کے اس طوفان کا کیسے سامنا کیا جائے۔حال ہی میں ہونے والی ورچول میٹنگز میں دو سوال ہمارے سامنے آئے ہیں:۔

اس وبائی مرض کے درمیان ہم نے کیا سیکھا ہے ؟

ہم کس طرح خدا کے ساتھ محبت کے رشتے میں زندگی بسر کرسکتے ہیں؟

اول ، یہاں تک کہ دکھ اور ناامیدی کے درمیان ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سب چیزوں کو خدا ہی سنبھالتا ہے اس سے بچا نہیں جا سکتا۔ یہ خدا کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ اس لئے عالمی وبا کے درمیان ہمیں یہ ضرور سیکھنے کی ضرورت ہے:۔

خداوند کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم کرنا ہے

خاندان کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم کرنا ہے

عالمی حالات کے مطابق خود کو بدلناہے

ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے اور خداوند پر نظر کرنے کی ضرورت جو ہماری برکات کا مرکز ہے۔

ہم کس طرح خدا کے ساتھ محبت کے رشتے میں زندگی بسر کرسکتے ہیں؟

نئے عہد نامہ میں پولس رسول نے اعلان کیا کہ کوئی بھی ہمیں خدا کی محبت سے جدانہیں کرسکتا(رومیوں۳۸:۸۔۳۹)۔ بالکل بھی نہیں۔ خدا کی محبت کبھی بھی ختم نہیں ہوتی ، وہ ہر صبح تازہ ہوتی ہے۔ اس کی ہم سے محبت ہمار ے حالات پر منحصر نہیں ہے۔ اس وبائی مرض کے وقت میں ہم صرف اس کے احکامات کی تعمیل کر رہے ہیں۔ اس کی مرضی جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے ہماری زندگی کے بھی ہر پہلو میں ہو۔

حبقوق نبی اپنی زندگی کے انتہائی نازک وقت میں کہتا ہے کہ

تو بھی میں خداوند سے خوش رہوں گا

اور اپنے نجات بخش خدا سے خوش وقت ہوں گا۔

خداوند خدا میری توانائی ہے ۔

وہ میرے پاؤں ہرنی کے سے بنا دیتا ہے

اور مجھے میری اونچی جگہوں میں چلاتا ہے(حبقوق۱۸:۳۔۱۹)۔

اعدادوشمار کے مطابق بنگلہ دیش کی صورتحال اور زیادہ خراب ہونے والی ہے۔ اس وبائی مرض سے اور بہت سے لوگ بھی اپنی جان گنوا بیٹھیں گے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ خدا اپنے بچوں کی دعائیں سنتا ہے۔ خداوند سے ہماری التجا ہے کہ وہ اپنے رحم اور فضل کی بدولت دنیا کو بدل سکتا ہے۔ وہ ہمارے لئے راستے بنانے اور معجزے کرنے والا ہے۔ ہمیں اسی کے وعدؤں پر ایمان رکھنے اور اس کے وقت کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے

جیسے کہ داؤد نے کہا خداوند اپنا کلام نازل فرما کر ان کو شفا دیتا ہے اور ان کو ان کی ہلاکت سے رہائی بخشتا ہے۔میں یہی الفاظ خداوند کے حضور بلند کر رہا ہوں اور اُس کے وقت کا انتظار کر رہا ہوں۔

پیٹر ڈی مازومدار۔ اس وقت بنگلہ دیش میں سٹوڈنٹ فیلوشپ کے نیشنل ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔