مکاشفہ 12:10۔12 ’’اور وہ برّہ کے خُون اور اپنی گواہی کے کلام کے باعِث اُس پر غالِب آئے اور اُنہوں نے اپنی جان کو عزِیز نہ سمجھا۔ یہاں تک کہ مَوت بھی گوارا کی‘‘۔(آیت 11)

یسوع المسیح کے شاگرد ہوتے ہوئے اس کے نقشِ قدم پر چلنا اور ایمان میں ثابت قدم رہنا ہمیں اطمینان فراہم کرتا ہے اس سے ہم لطف اندو ز ہوتے ہیں ہم یہ توقع ہرگز نہیں رکھتے کہ زندگی کے مشکل ترین سوالات کے آسان جوابات دے سکیں گے مگر خدا سے دوستی کا پورا لطف اٹھاتے ہیں جس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح سے زندگی کے تجربات کا مقصد تلاش کرنا ہے ۔

قرب و جوار کے لوگوں کے چند سوالات ہیں جن کے شاید میرے پاس تسلی بخش جوابات موجود نہ ہوں یا شاید عارضی ہوں لیکن ان سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ میرے پاس ابدی و ازلی ذات کے دعوے موجود ہیں جو یقیناً تسلی بخش ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھلے ہی ہر چیز عارضی ہے جس کے باعث ہم بہت بار مایوس بھی ہو تے ہیں لیکن اس کے برعکس یہ بھی غورو فکر کیا جا سکتا ہے

کہ زندگی متوازن ہے اگرچہ ہر چیز ایک دوسرے سے مختلف ہے تو بھی ان سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ زندگی اپنے حساب سے چلتی ہے اور یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ ہماری صحت ، مالی استحکام اور سکون وآرام کا ذمہ دار کون ہے ؟ خدائے قدوس کے ساتھ منسلک ہونے کا فیصلہ بظاہر چھوٹا سا معلوم ہوتا ہےمگر یہ ایمان کی وسط کا باعث بنتا ہے ۔ کسی دباؤ کے تحت ہو سکتا ہے کہ یہ فیصلہ ظاہر نہ ہو مگر یاد رکھیےیہ گواہی کے طور پر کام کرتا ہے دراصل یہ ہو حقیقی بنیاد ہے جس کے باعث ہر شہید نے ایمان سے منحرف نہ ہونے کے صورت میں موت گوارہ کی۔ پس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ کا حصہ ہے کہ ہمیں ہر صورت اپنے زندہ خدا پر بھروسہ رکھتے ہوئے جینا ہے۔

غور طلب حوالہ جات :   زبور103:13۔22؛دانی ایل 2:26۔49؛لوقا 17:20۔25؛ یوحنا 18:28۔40

عملی کام : ہمیں خدا ئے واحد کے  پر بھروسہ رکھتے ہوئے  زندگی کو گزارنا چاہئے۔

  دُعا:علیمِ  کل ، بادشاہوں کے بادشاہ   بادشاہی، طاقت اور جلال ہمیشہ کے لیے تیر ے  ہی ہیں ۔ آمین۔‘‘ (1۔تواریخ 29:11)


انسپلیش سے لی گئ ارون بلانکو تاجیدور کی تصویر۔

Micha Jazz is Director of Resources at Waverley Abbey, UK.